کاتب الحروف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لکھنے والا، رقم المعروف (لکھنے والا اپنے لیے استعمال کرتا ہے) "والدِ ماجد نے جب آخری عمر میں تبرکات تقسیم فرمائے تو ان دونوں بالوں میں ایک کاتب الحروف کو عنایت فرمایا۔"      ( ١٩٧٣ء، انفاس العارفین، ١٠٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'کاتب' کو حرفِ تخصیص 'ا ل' کے ذریعے اسی باب سے مشتق اسم 'حرف' کی جمع 'حروف' کے ساتھ ملانے سے مرکب بنا اردو میں اپنی شکل، ساخت اور معنی کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "مطلع العجائب" کے ترجمہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لکھنے والا، رقم المعروف (لکھنے والا اپنے لیے استعمال کرتا ہے) "والدِ ماجد نے جب آخری عمر میں تبرکات تقسیم فرمائے تو ان دونوں بالوں میں ایک کاتب الحروف کو عنایت فرمایا۔"      ( ١٩٧٣ء، انفاس العارفین، ١٠٥ )

جنس: مذکر